Responsive Advertisement

Wellcome From Muhammad Anser

+92_333_67_00_515

Friday, December 3, 2021

جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے

 

جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے

کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے

کسے خبر وہ محبت تھی یا رقابت تھی

بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے

اب اک ہجوم شکستہ دلاں ہے ساتھ اپنے

جنہیں کوئی نہ ملا ہم سفر ہمارے ہوئے

کسی نے غم تو کسی نے مزاج غم بخشا

سب اپنی اپنی جگہ چارہ گر ہمارے ہوئے

بجھا کے طاق کی شمعیں نہ دیکھ تاروں کو

اسی جنوں میں تو برباد گھر ہمارے ہوئے

وہ اعتماد کہاں سے فرازؔ لائیں گے

کسی کو چھوڑ کے وہ اب اگر ہمارے ہوئے


Subscribe Me

About me

About Me

Comments

Contact Form

Name

Email *

Message *