Responsive Advertisement

Wellcome From Muhammad Anser

+92_333_67_00_515

Tuesday, March 1, 2022

عنوان: ہندوستان

 
عنوان: ہندوستان
 
اشوک‘ چندر گپت اور بکرماجیت بڑے بڑے نامور مہاراجے ہندوستان میں گذر چکے تھے‘ ہئیت‘ ریاضی‘ فلسفہ وغیرہ علوم پر ہندیوں کو خاص طور پر ناز تھا‘ کرشن‘ رام چندر اور گوتم بدھ جیسے بانیان مذاہب کی حکایات اور مہابھارت ورام لیلا کے رزمیہ افسانے بھی ان کو یاد تھے‘ لیکن جس زمانہ کی دنیا کا ہم اس وقت معائنہ کر رہے ہیں ‘ اس زمانہ میں بدھ مذہب ہندوستان سے خارج ہو رہا تھا اور برہمنی مذہب بتدریج زور پکڑ رہا تھا‘ ہندوستان کے کسی ایک بڑے صوبہ پر بھی کوئی ایک عظیم الشان سلطنت اور حکومت قائم نہ تھی‘ تمام ملک میں بت پرستی کا زور شور اور خوب دور دورہ تھا‘ بدھ اور برہمنی دونوں مذہبوں میں بتوں کی پوجا یکساں طور پر موجب نجات سمجھی جاتی تھی‘ براہمنوں اور بدھوں کے بت اکثر مندروں میں ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو رکھے ہوتے تھے اور بڑے جوش عقیدت کے ساتھ پوجے جاتے تھے‘ چینی سیاح لکھتا ہے کہ ہندوستان کا ایک بھی گھر قسمیہ حد تک بتوں سے خالی نہ تھا۔
بام مارگیوں کے پلید اور حیا سوز مسلک نے ملک کے ہر حصہ میں قبولیت اور ہر دل عزیزی حاصل کر لی تھی‘ زناکاری کے لیے مصریوں کی طرح اصول و قواعد مقرر ہو کر داخل مذہب سمجھے گئے تھے‘سندھ کے راجائوں میں ایسی مثالیں موجود تھیں کہ حقیقی بہنوں سے انہوں نے شادیاں کیں ‘ جب راجائوں اور حکمرانوں کی یہ حالت تھی تو عوام کی بدتمیزیاں کچھ ان سے بھی بڑھ کر ہی ہوں گی۔
اسی زمانہ کی بعض تصانیف جو آج پرانی اور مذہبی کتابوں کی صورت میں دستیاب ہوتی ہیں میں ہندیوں کے اخلاق کو نہایت پست اور ان کی معاشرت کو بے حد قابل شرم ظاہر کرتی ہیں ‘ ستاروں ‘ سیاروں ‘ پہاڑوں ‘ دریائوں ‘ درختوں ‘حیوانوں ‘ سانپوں ‘ پتھروں اور شرم گاہوں کی پرستش ملک ہندوستان میں رائج اور ہر طرف جاری و ساری تھی۔۱ اسی سے اندازہ کیاجا سکتا ہے کہ اس ملک کی تاریکی کس قدر عظیم اور اہم تھی۔
x

Subscribe Me

About me

About Me

Comments

Contact Form

Name

Email *

Message *