Responsive Advertisement

Wellcome From Muhammad Anser

+92_333_67_00_515

Friday, December 3, 2021

ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی

ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی


ہزار بار نگہ کی مگر کبھی نہ ہوئی


تری خوشی سے اگر غم میں بھی خوشی نہ ہوئی


وہ زندگی تو محبت کی زندگی نہ ہوئی


کہاں وہ شوخ ملاقات خود سے بھی نہ ہوئی


بس ایک بار ہوئی اور پھر کبھی نہ ہوئی


وہ ہم ہیں اہل محبت کہ جان سے دل سے


بہت بخار اٹھے آنکھ شبنمی نہ ہوئی


ٹھہر ٹھہر دل بے تاب پیار تو کر لوں


اب اس کے بعد ملاقات پھر ہوئی نہ ہوئی


مرے ��یال سے بھی آہ مجھ کو بعد رہا


ہزار طرح سے چاہا برابری نہ ہوئی


ہم اپنی رندی و طاعت پہ خاک ناز کریں


قبول حضرت سلطاں ہوئی ہوئی نہ ہوئی


کوئی بڑھے نہ بڑھے ہم تو جان دیتے ہیں


پھر ایسی چشم توجہ ہوئی ہوئی نہ ہوئی


تمام حرف و حکایت تمام دیدہ و دل


اس اہتمام پہ بھی شرح عاشقی نہ ہوئی


فسردہ خاطرئ عشق اے معاذ اللہ


خیال یار سے بھی کچھ شگفتگی نہ ہوئی


تری نگاہ کرم کو بھی آزما دیکھا


اذیتوں میں نہ ہونی تھی کچھ کمی نہ ہوئی


کسی کی مست نگاہی نے ہاتھ تھام لیا


شریک حال جہاں میری بے خودی نہ ہوئی


صبا یہ ان سے ہمارا پیام کہہ دینا


گئے ہو جب سے یہاں صبح و شام ہی نہ ہوئی


وہ کچھ سہی نہ سہی پھر بھی زاہ�� ناداں


بڑے بڑوں سے محبت میں کافری نہ ہوئی


ادھر سے بھی ہے سوا کچھ ادھر کی مجبوری


کہ ہم نے آہ تو کی ان سے آہ بھی نہ ہوئی


خیال یار سلامت تجھے خدا رکھے


ترے بغیر کبھی گھر میں روشنی نہ ہوئی


گئے تھے ہم بھی جگرؔ جلوہ گاہ جاناں میں


وہ پوچھتے ہی رہے ہم سے بات بھی نہ ہوئی


 

Subscribe Me

About me

About Me

Comments

Contact Form

Name

Email *

Message *