Responsive Advertisement

Wellcome From Muhammad Anser

+92_333_67_00_515

Friday, December 3, 2021

تیری باتیں ہی سنانے آئے

 

تیری باتیں ہی سنانے آئے

دوست بھی دل ہی دکھانے آئے

پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں

تیرے آنے کے زمانے آئے

ایسی کچھ چپ سی لگی ہے جیسے

ہم تجھے حال سنانے آئے

عشق تنہا ہے سر منزل غم

کون یہ بوجھ اٹھانے آئے

اجنبی دوست ہمیں دیکھ کہ ہم

کچھ تجھے یاد دلانے آئے

دل دھڑکتا ہے سفر کے ہنگام

کاش پھر کوئی بلانے آئے

اب تو رونے سے بھی دل دکھتا ہے

شاید اب ہوش ٹھکانے آئے

کیا کہیں پھر کوئی بستی اجڑی

لوگ کیوں جشن منانے آئے

سو رہو موت کے پہلو میں فرازؔ

نیند کس وقت نہ جانے آئے


Subscribe Me

About me

About Me

Comments

Contact Form

Name

Email *

Message *