
➰➰➰➰➰➰➰➰➰
*بد نیتی کا انجام*
➰➰➰➰➰➰➰➰➰
*ایک دانشور ایک بادشاہ کی نظر میں سما
گیا ، بادشاہ آئے دن اسے بیت المال سے یا
کسی امیر کو رقعہ لکھ کر انعام دلواتا ۔*
*اس کے خلاف ایک حسد کا مارا ہوا درباری
سازشوں میں مصروف تھا ۔ وہ بات بات پر بادشاہ کے کان اس کے خلاف بھرتا ، یہاں تک
کہ بادشاہ اس دانشور سے سخت بدظن ہوگیا اور اسے ختم کرانے کا فیصلہ کر لیا ۔*
*بادشاہ نے اپنے ایک امیر کو لکھا کہ :*
*حامل رقعہ کی کھال میں بھوسہ بھر کر
مجھے بھیج دو ۔*
*اور یہ رقعہ دانشور کو دے دیا .*
*جب دانشور دربار سے باہر نکلا تو سامنے
سے وہ درباری آرہا تھا ، اس نے رقعہ دیکھ کر پوچھا ، کس امیر کے نام ہے ؟*
*کہا فلاں کے نام .*
*کہنے لگا آج کل میرا ہاتھ بہت تنگ ہے ،
اگر تم پانچ سو درہم لے کر یہ رقعہ مجھے دے دو ، تو میں بہت مشکور ہوں گا ۔*
*سودا ہوگیا اور جب وہ چغل خور اس امیر
کے پاس پہنچا تو اس نے شاہی حکم کی فوری تعمیل کی اور اس کی کھال میں بھوسہ بھر کر
بادشاہ کو بھیج دیا .*
*بادشاہ کو جب پوری کیفیت معلوم ہوئی تو
کہا :*
*جو شخص دوسروں کے لیے گڑھا کھودتا ہے ،
وہ خود اس میں گرتا ہے*
*دانش ِ عرب و عجم ، ص : 69*
*ڈاکٹر غلام جیلانی برق*
➰➰➰➰➰➰➰➰➰