مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے
تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
" ترے پیچھے" کے دو معنی ہیں اول تیری غیر موجودگی میں یا تیری جدائی میں۔ دوم تیری وجہ سے یا تیرے عشق میں۔ مطلب یہ کہ اے محبوب تو مجھ سے یہ مت پوچھ کہ تیری جدائی میں میری کیا حالت ہوتی ہے بلکہ تو اپنے حسن اور ناز و بے اعتنائی کے رویے کو میری آنکھ سے دیکھ کر اسی پر قیاس کر لے کہ تیری غیر موجودگی میں میرا کیا حال ہوتا ہو گا۔ یعنی جب تو میرے سامنے کشمکش حیا و شوخی کے ہاتھوں دل تنگ اور مجبور ہو جاتا ہے تو میں بھی اس رویے کو دیکھ کر تیرے سامنے ہونے کے باوجود بہت رنجیدہ ہو جاتا ہوں۔ اب تو خود سمجھ لے کہ تیرے ہوتے میری یہ حالت ہوتی ہے تو تیری جدائی میں میرا کیا حال ہوتا ہو گا۔ میرا حال مت پوچھ تو اپنا رنگ (طرزِ عمل) دیکھ۔ شعر میں لفظ رنگ کی ترکیب نے لطف دوبالا کر دیا ہے۔
مرزا غالب