Responsive Advertisement

Wellcome From Muhammad Anser

+92_333_67_00_515

Friday, December 3, 2021

اب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننا


اب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننا

مجھ کو بھی کسی اور کا رستہ نہیں بننا


کہتی ہے کہ آنکھوں سے سمندر کو نکالو

ہنستی ہے کہ تم سے تو کنارہ نہیں بننا


محتاط ہے اتنی کہ کبھی خط نہیں لکھتی

کہتی ہے مجھے اوروں کے جیسا نہیں بننا


تصویر بناؤں تو بگڑ جاتی ہے مجھ سے

ایسا نہیں بننا مجھے ویسا نہیں بننا


اس طرح کے لب کون تراشے گا دوبارہ

اس طرح کا چہرہ تو کسی کا نہیں بننا


چہرے پہ کسی اور کی پلکیں نہیں جھکتی

آنکھوں میں کسی اور کا نقشہ نہیں بننا


میں سوچ رہا ہوں کہ میں ہوں بھی کہ نہیں ہوں

تم ضد پہ اڑی ہو کہ کسی کا نہیں بننا


میں رات کی اینٹیں تو بہت جوڑ رہا ہوں

پر مجھ سے تیرے دن کا دریچہ نہیں بننا


انکار تو یوں کرتی ہے جیسے کہ کبھی بھی

چھاؤں نہیں بننا اسے سایا نہیں بننا


اس درد کی تحویل میں رہتے ہوئے ہم کو

چپ چاپ بکھرنا ہے تماشا نہیں بننا


اس نے مجھے رکھنا ہی نہیں آنکھوں میں عامرؔ

اور مجھ سے کوئی اور ٹھکانہ نہیں بننا

 

Subscribe Me

About me

About Me

Comments

Contact Form

Name

Email *

Message *