دختر
کشی
بنی تمیم اور قریش میں دختر کشی کی رسم
سب سے زیادہ جاری تھی‘ اس رسم دختر کشی پروہ فخر کرتے اور اپنے لیے نشان عزت
سمجھتے تھے‘ بعض گھرانوں میں یہ سنگدلی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ لڑکی جب بڑی ہو
جاتی‘ یعنی خوب میٹھی میٹھی باتیں کرتی‘ اور اس کی عمر پانچ چھ سال کی ہو جاتی تب
اس کو اچھے کپڑے پہنا کر سنگ دل باپ خود لے کر بستی سے باہر جاتا جہاں وہ پہلے سے
ایک گہرا گڑھا کھود آتا تھا‘ اس گڑھے کے کنارے اس لڑکی کو کھڑا کر کے پیچھے سے
دھکا دے کر گرا دیتا وہ لڑکی چیختی چلاتی اور باپ سے امداد طلب کرتی‘ لیکن وہ ظالم
باپ اوپر سے ڈھیلے مار کر اور مٹی ڈال کر اس کو دبا دیتا اور زمین ہموار کر کے
واپس چلا آتا اور اس طرح اپنے لخت جگر کو زندہ در گور کرنے پر فخر کرتا‘ بنی تمیم
کے ایک شخص قیس بن عاصم نے اسی طرح اپنی دس لڑکیاں زندہ دفن کی تھیں ۔
دختر کشی کی اس ظالمانہ رسم سے عرب کا
کوئی بھی قبیلہ پاک نہ تھا مگر بعض قبیلوں میں یہ حرکت کثرت سے ہوتی تھی اور بعض میں
کسی قدر کم۔