Responsive Advertisement

Wellcome From Muhammad Anser

+92_333_67_00_515

Friday, December 3, 2021

اور اب یہ کہتا ہوں یہ جرم تو روا رکھتا

اور اب یہ کہتا ہوں یہ جرم تو روا رکھتا

میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا


خیال صبحوں کرن ساحلوں کی اوٹ سدا

میں موتیوں جڑی بنسی کی لے جگا رکھتا


جب آسماں پہ خداؤں کے لفظ ٹکراتے

میں اپنی سوچ کی بے حرف لو جلا رکھتا


ہوا کے سایوں میں ہجر اور ہجرتوں کے وہ خواب

میں اپنے دل میں وہ سب منزلیں سجا رکھتا


انہیں حدوں تک ابھرتی یہ لہر جس میں ہوں میں

اگر میں سب یہ سمندر بھی وقت کا رکھتا


پلٹ پڑا ہوں شعاعوں کے چیتھڑے اوڑھے

نشیب زینۂ ایام پر عصا رکھتا


یہ کون ہے جو مری زندگی میں آ آ کر

ہے مجھ میں کھوئے مرے جی کو ڈھونڈتا رکھتا


غموں کے سبز تبسم سے کنج مہکے ہیں

سمے کے سم کے ثمر ہیں میں اور کیا رکھتا


کسی خیال میں ہوں یا کسی خلا میں ہوں

کہاں ہوں کوئی جہاں تو مرا پتا رکھتا


جو شکوہ اب ہے یہی ابتدا میں تھا امجدؔ

کریم تھا مری کوشش میں انتہا رکھتا


 

Subscribe Me

About me

About Me

Comments

Contact Form

Name

Email *

Message *